
بچے کی تلاوت گھر پر، روزانہ کے پندرہ پرسکون منٹوں میں سنورتی ہے۔ وہ چھوٹی عادتیں جو سب سے زیادہ کام آتی ہیں، اور اگر آپ خود تجوید سے نہیں پڑھ سکتے تب بھی مدد کیسے کریں۔
بچے کی تلاوت اصل میں کلاس میں نہیں بنتی۔ استاد ایک منٹ میں کسی حرف کی ادائیگی درست کروا دیتے ہیں، مگر یہ درستی تبھی پکی ہوتی ہے جب بچہ اگلے دن، اور اس سے اگلے دن، گھر پر اسے پھر صحیح پڑھے۔
قرآن پڑھانے والے اساتذہ عموماً چند سطریں سن کر ہی جان لیتے ہیں کہ کون سا بچہ روز تھوڑی سی مشق کرتا ہے۔ فرق چھوٹی چھوٹی عادتوں کا ہوتا ہے، جو نرمی سے اور مہینوں تک نبھائی جائیں۔
روزانہ پندرہ منٹ، ایک ہی وقت پر
چھوٹے بچوں کے لیے پندرہ منٹ کافی ہیں۔ اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وقت روز ایک ہی ہو، تاکہ اس پر روز بحث نہ کرنی پڑے۔ اسے کسی ایسے کام سے جوڑ دیں جو پہلے ہی روز ہوتا ہے: جلدی اٹھنے والوں کے لیے فجر کے بعد، بہت سے گھروں میں مغرب کے بعد، یا دوپہر کے کھانے کے بعد ٹیوشن کی بھاگ دوڑ سے پہلے۔
جگہ بھی ایک ہی رکھیں: صاف ستھرا کونا، رحل، قاعدہ یا قرآن پاک، اور موبائل خاموش۔ آن لائن کلاس کے لیے خاموشی اور بھی ضروری ہے: استاد ہر حرف مائیک کے ذریعے سن رہے ہوتے ہیں۔ بہت سے گھرانوں میں بچہ پہلے وضو کر لیتا ہے، جس سے یہ وقت خاص بن جاتا ہے۔
جب بچہ ابھی اور پڑھنا چاہ رہا ہو، وہیں رک جائیں۔ جو مختصر نشست اچھے انداز میں ختم ہو، بچہ اگلے دن اسی کے لیے خوشی سے بیٹھتا ہے۔
پہلے سنیں، پھر پڑھیں
بچے وہی دہراتے ہیں جو سنتے ہیں۔ اگر ہفتہ بھر بچہ صرف اپنی ہی تلاوت سنے تو چھوٹی چھوٹی غلطیاں آہستہ آہستہ عادت بن جاتی ہیں۔ پڑھنے سے پہلے آج کی سطروں کی آہستہ اور صاف تلاوت لگائیں، اور بچے کو انگلی رکھ کر ساتھ ساتھ چلنے دیں۔
استاد سے پوچھ لیں کہ کس قاری کی تلاوت سنی جائے، تاکہ گھر اور کلاس کا انداز ایک جیسا رہے۔ سیکھنے والوں کے لیے بنی ریکارڈنگز بہترین ہیں، جن میں قاری صاحب تھوڑا سا حصہ پڑھ کر رکتے ہیں تاکہ بچے دہرا سکیں۔ اگر بچہ آن لائن پڑھتا ہے تو کلاس کی ریکارڈنگ بھی اتنا ہی کام دیتی ہے۔
قرآن خود ٹھہر کر پڑھنے کا حکم دیتا ہے: وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا، ”اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو“ (سورۃ المزمل، 73:4)۔ اس لیے جو بچہ دھیان سے پڑھ رہا ہو اسے کبھی جلدی نہ کروائیں۔
ہر ہفتے ایک قاعدہ
ایک ساتھ تجوید کے دس قاعدے سکھائیں تو بچے کو ایک بھی یاد نہیں رہتا۔ ایک قاعدہ، جس کی پورا ہفتہ انہی صفحوں پر مشق ہو جو وہ پہلے سے پڑھ رہا ہے، دل میں بیٹھ جاتا ہے۔ بہت چھوٹے بچوں کے لیے دو ہفتے میں ایک قاعدہ بھی ٹھیک ہے۔ نیچے ایک نرم سی ترتیب دی گئی ہے؛ اگر آپ کے بچے کے استاد کی ترتیب مختلف ہو تو استاد ہی کی بات مانیں۔
- پہلا ہفتہ، مخارج (ہر حرف کہاں سے نکلتا ہے)۔ اردو میں ح اور ہ کی آواز ایک جیسی ہے، اور ہم میں سے بہت سے لوگ ق کو ک کی طرح بولتے ہیں۔ قرآن میں یہ الگ الگ حروف ہیں۔ ح حلق کے درمیان سے نکلتا ہے اور ه حلق کے سب سے گہرے حصے سے؛ ق زبان کی جڑ سے، ک سے ذرا پیچھے سے ادا ہوتا ہے۔ الْحَمْدُ میں ح کو غور سے سنیں، اور دیکھیں کہ قُلْ (کہو) اور كُلْ (کھاؤ) دو الگ الفاظ ہیں۔
- دوسرا ہفتہ، غنہ (ناک میں گونج)۔ جب نون یا میم پر شد ہو تو آواز تقریباً دو گنتی تک ناک میں روکی جاتی ہے، جیسے إِنَّ اور ثُمَّ میں۔ سورۃ الناس میں یہ بار بار آتا ہے: النَّاسِ۔ بچوں کو یہ تجربہ بہت پسند آتا ہے: گونج کے دوران ناک ہلکے سے دبائیں۔ اگر آواز رک جائے تو سمجھیں وہ صحیح جگہ سے آ رہی تھی۔
- تیسرا ہفتہ، مد (قدرتی کھنچاؤ)۔ لمبی آواز کو برابر دو گنتی تک کھینچا جاتا ہے، نہ کم نہ زیادہ، جیسے قَالَ اور يَقُولُ میں۔ بچے یا تو اسے جلدی میں کھا جاتے ہیں یا گانے کی طرح کھینچ دیتے ہیں۔ دو انگلیاں، دو گنتی۔
- چوتھا ہفتہ، قلقلہ (ہلکا سا اچھال)۔ ق ط ب ج د پر جب جزم (سکون) ہو تو ان کی آواز میں ہلکا سا اچھال آتا ہے۔ سورۃ الاخلاص اس کی بہترین مشق ہے: لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ۔
آج کے سبق سے پہلے کل کا سبق
حفظ کے بہت سے اساتذہ تین لفظ استعمال کرتے ہیں: سبق یعنی نیا سبق، سبقی یعنی پچھلے چند دنوں کا سبق، اور منزل یعنی پرانا یاد کیا ہوا حصہ۔ ناظرہ پڑھنے والے بچے کو بھی یہی اصول چھوٹے پیمانے پر چاہیے۔ کچھ نیا شروع کرنے سے پہلے بچہ کل والی سطریں ایک بار آرام سے پڑھے۔ اس میں صرف چار منٹ لگتے ہیں۔
پندرہ منٹ کی نشست کچھ یوں ہو سکتی ہے:
- 4 منٹ: کل والی سطریں پڑھنا۔
- 3 منٹ: آج کی سطریں سننا اور انگلی سے ساتھ چلنا۔
- 6 منٹ: اس ہفتے کے قاعدے کو ذہن میں رکھ کر آج کی سطریں پڑھنا۔
- 2 منٹ: بچہ اپنی پسندیدہ سورت آپ کو سنائے۔
ہفتے میں ایک بار موبائل پر بچے کی تلاوت ریکارڈ کریں اور مل کر سنیں۔ بچے اپنی غلطیاں جلدی پکڑ لیتے ہیں، اور اپنی ترقی بھی خود سن لیتے ہیں۔
محنت کی تعریف کریں
کچھ بچوں کی آواز میٹھی ہوتی ہے اور کچھ کی نہیں۔ آواز سے یہ پتا نہیں چلتا کہ بچہ کتنا اچھا سیکھ رہا ہے۔ تعریف اس کی کریں جو اس نے واقعی کیا: ”آج تمہارا ح بالکل صاف تھا۔“ ”تم نے غنہ پوری دو گنتی تک کیا۔“
یہ حدیث بھی بچے کو سنائیں، خاص طور پر کسی مشکل دن: ”قرآن کا ماہر معزز، نیک اور لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو قرآن پڑھتے ہوئے اٹکتا ہے اور اسے پڑھنا مشکل لگتا ہے، اس کے لیے دو اجر ہیں“ (صحیح مسلم، 798)۔ مشکل لگنا سیکھنے کا حصہ ہے، اور اس پر بھی اجر ہے۔
کچھ باتیں خاموشی سے ساری محنت پر پانی پھیر دیتی ہیں:
- بچے کا موازنہ اس کزن سے کرنا جس نے ”سات سال کی عمر میں قرآن ختم کر لیا تھا“۔
- سزا کے طور پر زیادہ صفحے پڑھوانا۔ قرآن کبھی سزا نہیں بننا چاہیے۔
- بچہ تھک کر چور ہو تب بھی پڑھواتے رہنا۔ رو رو کر پڑھے گئے بیس منٹ سے دس اچھے منٹ بہتر ہیں۔
اگر آپ خود تجوید سے نہیں پڑھ سکتے
بہت سے والدین نے بچپن میں قرآن جلدی جلدی اور تجوید کے بغیر پڑھا تھا۔ آپ پھر بھی بہت مدد کر سکتے ہیں۔ آپ کو استاد بننے کی ضرورت نہیں: وقت کی پابندی کروائیں، بچے کے پاس بیٹھیں اور سنیں۔ آدھے سے زیادہ کام یہی ہے۔
- ریکارڈنگ کے ساتھ خود بھی انگلی رکھ کر چلیں، تاکہ بچہ دیکھے کہ آپ بھی سیکھ رہے ہیں۔
- بچے سے کہیں کہ اس ہفتے کا قاعدہ آپ کو سکھائے۔ بچوں کو استاد بننا بہت اچھا لگتا ہے، اور ابو کی غنہ میں غلطی پکڑنا تو ان کے ہفتے کا سب سے مزے کا لمحہ ہوتا ہے۔
- اگر کوئی لفظ ریکارڈنگ سے مختلف لگے تو خود نہ ٹوکیں۔ ایک پرچی پر صفحہ اور سطر لکھ لیں اور استاد سے پوچھیں: ”کیا آپ صفحہ 12 کی پانچویں سطر دیکھ لیں گے؟ مجھے مد کے بارے میں یقین نہیں تھا۔“
- بچے کے ساتھ خود بھی سیکھیں۔ تجوید شروع کرنے میں کبھی دیر نہیں ہوتی، اور بچے دیکھتے ہیں جب امی یا ابو بھی سیکھ رہے ہوں۔
آج رات وقت طے کریں، رحل رکھ دیں، اور بچے کے سبق کی ایک آہستہ تلاوت لگا دیں۔ پہلا قدم بس اتنا ہی ہے۔
اگر آپ ابھی استاد تلاش کر رہے ہیں تو بچوں کے لیے آن لائن قرآن کلاسز پر ہماری تحریر بتاتی ہے کہ ٹرائل کلاس میں کیا سننا چاہیے۔ جب آپ جان لیں کہ بچے کو کیا چاہیے، تو آپ Education360 پر استاد تلاش کر سکتے ہیں۔