
اردو مضمون میں زیادہ تر نمبر چار ایسی غلطیوں پر کٹتے ہیں جن سے بچا جا سکتا ہے۔ کام کرنے والا خاکہ، اشعار کا درست استعمال، محاوروں کا ذخیرہ اور ہفتہ وار مشق۔
اردو کے استاد ہر سال یہی دیکھتے ہیں: جو بچے دن بھر اردو بولتے ہیں، وہی اردو کے مضمون میں نمبر گنوا بیٹھتے ہیں۔ وجہ الفاظ کی کمی کم ہی ہوتی ہے۔ اصل وجہ چار عادتیں ہیں، اور چاروں چند ہفتوں میں ٹھیک ہو سکتی ہیں۔
پھر مضمون پرچے کا وہ سوال ہے جس میں تقریباً سب کچھ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے، اس لیے یہاں تیاری سب سے زیادہ رنگ لاتی ہے۔
نمبر کہاں کٹتے ہیں
- خاکہ نہیں بنایا۔ مضمون بھٹکتا ہے، ایک ہی بات دہراتا ہے، اور وہاں ختم ہوتا ہے جہاں وقت ختم ہوا۔ ممتحن عموماً پہلے پیراگراف سے ہی سمجھ جاتا ہے کہ لکھنے والے کے ذہن میں کوئی ترتیب تھی یا نہیں۔
- شعر جو موقع پر نہیں بیٹھتا۔ کسی اور مضمون کے لیے یاد کیا ہوا، آدھا یاد، یا غلط شاعر کے نام سے۔
- ایک ہی لمبا پیراگراف۔ دو صفحے اور کہیں کوئی وقفہ نہیں۔ خیالات شاید سب موجود ہوں، مگر کاپیوں کے ڈھیر کے سامنے بیٹھا تھکا ہوا ممتحن انہیں کھود کر نہیں نکالے گا۔
- املا کی غلطیاں۔ ذ اور ز، ض اور ظ، س، ص اور ث، ت اور ط کی گڑبڑ؛ کہیں نقطہ غائب؛ جہاں ں چاہیے وہاں ن۔ ایک غلطی چھوٹی ہوتی ہے، دس غلطیاں چھوٹی نہیں رہتیں۔
ایک پانچویں غلطی ذرا خاموش ہے: رٹا ہوا مضمون جو کسی اور عنوان کا جواب ہو۔ ”سائنس: رحمت یا زحمت“ دونوں پہلو اور آپ کی اپنی رائے مانگتا ہے، جو رٹا ہوا ”سائنس کے کرشمے“ نہیں دے سکتا۔ عنوان دو بار پڑھیں۔
خاکہ جو کام کرتا ہے: تمہید، نفسِ مضمون، اختتام
پہلے تین منٹ منصوبہ بندی کو دیں، حاشیے میں یا رف ورک والے صفحے پر: عنوان، پھر پانچ چھ نکات، ہر ایک دو تین لفظوں میں، اور ان پر ترتیب وار نمبر۔
تمہید
چار پانچ سطریں جو صرف اسی موضوع کی ہوں: کوئی منظر، کوئی سوال، کوئی سیدھی سی حقیقت، یا ایسا شعر جو واقعی موزوں ہو۔ وہ عام جملے چھوڑ دیں جو ممتحن سینکڑوں کاپیوں میں پڑھ چکا ہوتا ہے، جیسے ”انسان ایک معاشرتی حیوان ہے“۔ آلودگی پر لکھنا ہو تو یہ جملہ پڑھنے والے کو فوراً موضوع کے اندر لے آتا ہے: ”نومبر آتا ہے تو لاہور کی صبحیں دھند سے نہیں، دھوئیں سے ڈھکی ہوتی ہیں۔“ آخر میں ایک جملہ لکھیں جو بتائے کہ مضمون میں کن باتوں کا ذکر ہو گا۔
نفسِ مضمون
تین سے پانچ پیراگراف، ہر ایک میں ایک بات، اور ہر پیراگراف کا پہلا جملہ بتا دے کہ اس میں کیا ہے۔ مثالیں اصل زندگی سے دیں: اپنی گلی، اپنا اسکول، اخبار کی کوئی خبر۔ عنوان میں ”فوائد اور نقصانات“ یا ”رحمت یا زحمت“ ہو تو ہر پہلو کو الگ پیراگراف دیں، پھر بتائیں کہ آپ کس طرف کھڑے ہیں۔
اختتام
تین چار سطریں، اور کوئی نئی دلیل نہیں۔ تمہید والے منظر کی طرف لوٹیں، کوئی تجویز یا عزم لکھیں، اور بس۔
”وقت کی پابندی“ کا خاکہ کچھ یوں ہو سکتا ہے:
| حصہ | نکتہ |
|---|---|
| تمہید | ایک مسافر پلیٹ فارم پر پہنچتا ہے اور گاڑی چل پڑتی ہے |
| پیراگراف 1 | وقت کی پابندی کا مطلب: ہر کام اپنے وقت پر |
| پیراگراف 2 | مثالیں: نماز کے اوقات، اسکول کی گھنٹی، موسم پر بیج بونا |
| پیراگراف 3 | اس سے ہمیں کیا ملتا ہے، اور دیر کی قیمت کیا ہے |
| پیراگراف 4 | عادت کیسے بنے: کل کا بستہ آج رات تیار |
| اختتام | پلیٹ فارم کی طرف واپسی، اور ایک عزم |
اشعار کا درست استعمال
شعر کھانے کا نمک ہے، کھانا نہیں۔ ایک مضمون میں دو تین شعر کافی ہیں، اور ہر شعر کو چار کسوٹیوں پر پورا اترنا چاہیے:
- وہ اس پیراگراف سے میل کھائے جس میں لکھا جا رہا ہے۔ صرف عنوان سے میل کھانا کافی نہیں۔
- وہ ہو بہو ہو۔ ایک لفظ بھی رہ جائے تو وزن ٹوٹ جاتا ہے، اور اردو کا ممتحن یہ فوراً سن لیتا ہے۔
- شاعر کا نام یقینی ہو۔ یقین نہ ہو تو ”بقولِ شاعر“ لکھیں؛ غلط نام لکھنا، نام نہ لکھنے سے زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔
- اسے سلیقے سے پیش کیا جائے: پہلے ایک تعارفی جملہ، پھر شعر الگ دو سطروں میں، پھر ایک جملہ جو اسے آپ کی بات سے جوڑ دے۔
علم والے پیراگراف میں پہلے تعارفی جملہ لکھیں: ”علامہ اقبال کی نظم ‘بچے کی دعا’ میں بچہ یوں دعا کرتا ہے:“ پھر شعر:
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یارب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب
پھر جوڑنے والا جملہ: ”علم سے یہی محبت طالب علم کو آگے لے جاتی ہے۔“ اسی نظم کا اگلا شعر کسی اور مضمون کا ہے، خدمتِ خلق کا:
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
ایک ہی نظم، دو الگ مضمون۔ ہمیشہ یہی پوچھیں: کیا یہ شعر وہی بات کہہ رہا ہے جو یہ پیراگراف کہہ رہا ہے؟
اب ایک تنبیہ: ایک بہت مشہور شعر، جو اکثر اقبال کے نام سے لکھا جاتا ہے، ان کا نہیں ہے۔ ریختہ اور ڈان دونوں کے مطابق یہ سید صادق حسین کا شعر ہے، ان کے مجموعے ”برگِ سبز“ سے:
تندیٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
مشکلات کا مقابلہ کرنے والے مضمون میں یہ شعر خوب جچتا ہے۔ ضرور لکھیں، مگر ”بقولِ شاعر“ کے ساتھ یا درست نام کے ساتھ۔
اشعار اپنی اردو کی کتاب سے جمع کریں، جہاں متن درست لکھا ہے، اور انہیں موضوع وار ایک چھوٹی سی بیاض میں شاعر کے نام کے ساتھ لکھ لیں۔
اپنا ذخیرۂ الفاظ بنائیں
جملے اور محاورے یاد کریں، پورے پیراگراف نہیں: پیراگراف ایک عنوان پر بیٹھتا ہے، اچھا جملہ پچاس پر۔ کاپی میں ہر گروہ کو الگ صفحہ دیں:
- ربط کے لیے: اس کے علاوہ، دوسری طرف، اس کے برعکس
- محاورے: خون پسینہ ایک کرنا، کمر کس لینا
- ضرب الامثال: قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے، جیسی کرنی ویسی بھرنی
- اختتام کے لیے: مختصر یہ کہ، الغرض
محاورہ وہیں لگائیں جہاں اس کا مطلب بیٹھتا ہو۔ پکنک کے احوال میں ”خون پسینہ ایک کرنا“ پڑھ کر ممتحن مسکرائے گا ضرور، مگر اس طرح نہیں جیسے آپ چاہتے تھے۔
ایک صفحہ املا کا بھی رکھیں: جو لفظ غلط ہوا، اسے درست شکل میں پانچ بار لکھیں۔ شروعات ان سے کریں: ذریعہ، ضرورت، صحت، ثابت۔ ان جوڑوں پر خاص نظر رکھیں جن میں ایک حرف بدلنے سے معنی بدل جاتے ہیں: صورت اور سورت، صدا اور سدا، نظر اور نذر۔ اگر آپ کی کتاب ”کے لیے“ اور ”اس لیے“ الگ الگ لکھتی ہے تو آپ بھی ایسے ہی لکھیں۔
پرچے تک مشق کا معمول
- روزانہ دس منٹ: کسی پرانے پرچے کے عنوان پر ایک پیراگراف، یا کسی نئے عنوان کی تمہید۔
- ہفتے میں دو بار صرف خاکے: تین عنوان، ہر ایک کے لیے تین منٹ۔ فیصلہ کرنا سب سے مشکل کام ہے، اس لیے اس کی الگ مشق کریں۔
- ہفتے میں ایک بار گھڑی سامنے رکھ کر پورا مضمون۔ وقت یوں نکالیں: پرچے کے کل وقت کو کل نمبروں پر تقسیم کریں اور مضمون کے نمبروں سے ضرب دیں۔ تین منٹ آخری جانچ کے لیے رکھیں۔
- لکھنے کے بعد خاکہ، پیراگرافوں کے وقفے، ہر شعر اور املا والا صفحہ دیکھیں، پھر ایک پیراگراف دوبارہ لکھیں۔
- گھر میں کسی کو پڑھ کر سنائیں۔ اچھی اردو والے دادا دادی یا نانا نانی اکثر وہ غلطی سن لیتے ہیں جو آنکھ سے چھوٹ گئی تھی۔
- اپنے بورڈ کے پچھلے پانچ سال کے مضمون کے عنوان خاندانوں میں بانٹ لیں (مشہور شخصیات، معاشرتی مسائل، سائنس، اخلاق، تہوار، مناظر اور سفر) اور ہر خاندان کا ایک خاکہ تیار رکھیں۔
آج رات پچھلے سال کے پرچے سے ایک عنوان لیں: تین منٹ خاکے کو، دس منٹ تمہید اور پہلے پیراگراف کو، پھر اسے اونچی آواز میں پڑھیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئی استاد ہر ہفتے آپ کا ایک مضمون جانچے، تو Education360 پر صحیح استاد تلاش کریں۔ اور 40 فیصد پاسنگ مارکس والی ہماری تحریر میں وہ عادتیں ملیں گی جو مشق کو پکا کرتی ہیں۔