اعتماد سے انگریزی بولیں: جھجکنے والے طلبہ کے لیے 30 دن کا منصوبہ

میرون حجاب میں ایک نوجوان لڑکی ہاتھوں کے اشارے سے کچھ سمجھا رہی ہے اور ایک نوجوان کیفے کی میز پر چائے کے کپوں کے پاس بیٹھا مسکرا کر سن رہا ہے۔

انگریزی پڑھ لیتے ہیں مگر بولتے وقت ذہن خالی ہو جاتا ہے؟ چار ہفتوں کا منصوبہ، شیڈوئنگ سے دو منٹ کی بات تک، اور پاکستانی انگریزی کی وہ عادتیں جو بدلنے کے قابل ہیں۔

آپ ڈان کا اداریہ پڑھ لیتے ہیں۔ انگریزی میں نمبر بھی ٹھیک آئے تھے۔ پھر بھی جب کوئی انگریزی میں سیدھا سا سوال پوچھتا ہے تو ذہن خالی ہو جاتا ہے، اور آپ جواب اردو میں دے دیتے ہیں، یا بس yes کہہ کر گھبراہٹ میں مسکرا دیتے ہیں۔

اسپوکن انگلش پڑھانے والے اساتذہ کو ایسے طلبہ اکثر ملتے ہیں۔ عموماً انہیں انگریزی کافی آتی ہے۔ جس چیز کی کبھی مشق نہیں ہوئی، وہ ہے اسی لمحے، کسی کے سامنے، انگریزی زبان سے ادا کرنا۔

اچھا پڑھنے والے بولتے وقت کیوں اٹک جاتے ہیں

پڑھتے وقت آپ کے پاس وقت ہوتا ہے۔ آپ رک سکتے ہیں، سطر دوبارہ پڑھ سکتے ہیں، آس پاس کے جملے سے کسی لفظ کے مطلب کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ بولتے وقت یہ مہلت تقریباً نہیں ملتی۔ اگر آپ ہر جملہ پہلے اردو میں بناتے ہیں اور پھر اس کا ترجمہ کرتے ہیں تو جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی موقع نکل جاتا ہے۔

ہم میں سے زیادہ تر کو لکھی ہوئی انگریزی پر نمبر ملے: گرامر کی مشقیں، مضمون، کمپری ہینشن۔ بولنے پر بہت کم لوگوں کو کبھی نمبر ملے۔ یوں ایک مہارت کی ہمیں برسوں مشق ہوئی اور دوسری کی نہ ہونے کے برابر۔

پھر ڈر بھی ہوتا ہے۔ محققین اسے غیر ملکی زبان کی بے چینی، یعنی foreign language anxiety، کہتے ہیں۔ 1986 کے ایک مشہور مقالے میں ہارووٹز، ہارووٹز اور کوپ نے لکھا کہ طلبہ اکثر کاؤنسلرز کو بتاتے ہیں کہ انہیں گرامر کا کوئی اصول ”آتا“ ہے مگر ٹیسٹ یا زبانی مشق کے دوران وہ اسے ”بھول“ جاتے ہیں۔ پرکھے جانے کا ڈر الفاظ چھین لیتا ہے۔ اسی لیے یہ منصوبہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں آپ کو کوئی پرکھنے والا نہیں۔

30 دن کا منصوبہ

روزانہ بیس منٹ دیں، اور ہو سکے تو ایک ہی وقت پر: مغرب کے بعد، یا کالج جاتے ہوئے کانوں میں ایئر فون لگا کر۔ ہر ہفتہ پچھلے ہفتے کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے۔

پہلا ہفتہ (دن 1 سے 7): سنیں اور ساتھ ساتھ بولیں

  • کوئی ایسی ریکارڈنگ چنیں جس کا ٹرانسکرپٹ، یعنی تحریری متن، ساتھ ہو، اور ایک وقت میں اس کے ایک سے تین منٹ پر کام کریں۔ BBC Learning English کا پروگرام 6 Minute English مفت ہے اور اس کی قسطوں کے ساتھ ٹرانسکرپٹ ملتا ہے۔
  • ایک بار صرف مطلب سمجھنے کے لیے سنیں۔
  • پھر ایک ایک جملہ چلائیں اور بولنے والے کے ساتھ ساتھ، اسی رفتار سے بولیں۔ اسے شیڈوئنگ کہتے ہیں۔ ٹھہراؤ اور زور کی نقل کریں؛ لہجے کی فکر نہ کریں۔
  • روز پانچ کام کے جملے پورے کے پورے لکھیں، جیسے The thing is…، I’m not sure, but… اور What I mean is…۔

دوسرا ہفتہ (دن 8 سے 14): خود سے باتیں کریں

  • جو کر رہے ہیں اسے سادہ انگریزی میں اونچی آواز سے بیان کریں: چائے بناتے ہوئے، بیگ تیار کرتے ہوئے، وین کا انتظار کرتے ہوئے۔ کیتلی آپ کی گرامر پر نہیں ہنسے گی۔
  • ہر شام اپنے دن کے بارے میں ایک منٹ کا وائس نوٹ ریکارڈ کریں۔ اسے ایک بار سنیں اور کل کے لیے ایک چیز چنیں جسے ٹھیک کرنا ہے۔ صرف ایک۔
  • ایک ”اٹکنے کی فہرست“ بنائیں۔ جب بھی کوئی لفظ زبان پر نہ آئے، اس کا اردو لفظ لکھ لیں۔ بعد میں اس کی انگریزی ڈھونڈیں اور اگلے دن کے وائس نوٹ میں استعمال کریں۔

تیسرا ہفتہ (دن 15 سے 21): چھوٹی چھوٹی اصل گفتگو

  • ایک پریکٹس پارٹنر ڈھونڈیں، کوئی دوست یا کزن جو خود بھی کوشش کر رہا ہو۔ روز دس منٹ فون پر، صرف انگریزی میں۔ کال سے پہلے تین سوال تیار کر لیں۔
  • روز کلاس میں ایک سوال انگریزی میں پوچھیں۔ چھوٹا سا سوال بھی کافی ہے: Sir, could you explain the last step again?
  • اٹک جانے کی صورت کے لیے اپنے ”بچاؤ کے جملے“ یاد کر لیں: Sorry, let me say that again. What’s the word… it’s like a… Could you say that a bit more slowly?

چوتھا ہفتہ (دن 22 سے 30): دو منٹ کی بات

  • ایسا موضوع چنیں جسے آپ اچھی طرح جانتے ہوں: اپنا شہر، کوئی کرکٹ میچ، امی کے ہاتھ کا کوئی کھانا، وہ نوکری جو آپ چاہتے ہیں۔
  • اسکرپٹ کی بجائے تین نکات لکھیں۔ اسکرپٹ آپ کو پڑھنے پر لگا دیتا ہے، نکات بولنے پر۔
  • بات ریکارڈ کریں، وقت دیکھیں، اور ہر دوسرے دن دوبارہ کریں۔
  • تیسویں دن یہ بات کسی اصل سامع کو سنائیں: کھانے کے بعد گھر والوں کو، یا ویڈیو کال پر کسی دوست کو۔

غلطیوں کا ڈر دور کرنا

غلطیاں ہوں گی۔ دوسری زبان بولنے والا ہر شخص غلطی کرتا ہے، اور بہت سے لوگ اپنی مادری زبان میں بھی۔ زیادہ تر سننے والے آپ کا مطلب سمجھنے میں لگے ہوتے ہیں؛ گرامر کے نمبر بہت کم لوگ لگاتے ہیں۔

  • پہلے روانی، درستی بعد میں۔ پہلے تین ہفتے جملہ غلط ہو جائے تب بھی بولتے رہیں۔ اسے بعد میں وائس نوٹ میں ٹھیک کریں۔
  • اونچی آواز میں خود کو درست کریں۔ Sorry, I mean… کہنا بولنے کا عام حصہ ہے۔ روانی سے بولنے والے بھی یہ بار بار کہتے ہیں۔
  • مہربان پریکٹس پارٹنر چنیں۔ اگر کوئی ہنسے تو کہہ دیں: I’m practising. Help me or let me practise.

پاکستانی انگریزی: کیا ٹھیک ہے اور کیا بدلنے کے قابل

آپ کو برطانوی یا امریکی لہجے کی ضرورت نہیں۔ صاف پاکستانی انگریزی اچھی انگریزی ہے۔ کچھ عادتیں گھر پر بالکل ٹھیک ہیں، اور صرف تب بدلنے کے قابل ہیں جب آپ جنوبی ایشیا سے باہر کے لوگوں سے بات کریں۔ مثال کے طور پر کیمبرج ڈکشنری prepone کو، اور ”جواب دینا“ کے معنی میں revert کو، انڈین انگلش لکھتی ہے۔ گھر پر سب سمجھ جاتے ہیں؛ کسی غیر ملکی ممتحن یا کلائنٹ سے بات ہو تو bring forward اور reply کہیں۔

کچھ عادتیں ہر جگہ بدلنے کے قابل ہیں، کیونکہ ان سے سننے والا الجھتا ہے یا بات عجیب لگتی ہے:

  • Myself Ali کی جگہ I’m Ali یا My name is Ali۔
  • I am having two brothers کی جگہ I have two brothers۔
  • Let’s discuss about it کی جگہ Let’s discuss it۔
  • Where you are going? کی جگہ Where are you going?
  • He is elder than me کی جگہ He is older than me، البتہ My elder brother ٹھیک ہے۔
  • ”اِسکول“ اور ”اِسٹیشن“ کی جگہ school اور station۔ مشق کے لیے شروع میں لمبی ”سسس“ کی آواز نکالیں۔

روزانہ کی مفت مشق

  • ایک مہینے کے لیے موبائل کی زبان انگریزی کر دیں۔
  • انگریزی کمنٹری کے ساتھ کرکٹ میچ دیکھیں، پھر ایک اوور اپنے آپ کو انگریزی میں سمجھائیں۔
  • ہر صبح کسی انگریزی اخبار کا ایک پیراگراف اونچی آواز میں پڑھیں۔
  • دو دوستوں کے ساتھ صرف انگریزی والا واٹس ایپ گروپ بنائیں: ہر ایک روز ایک وائس نوٹ بھیجے۔
  • جو شو آپ پہلے سے پسند کرتے ہیں، اس پر اردو کی بجائے انگریزی سب ٹائٹلز لگائیں۔

تیسویں دن آپ نیوز ریڈر جیسے نہیں لگیں گے۔ آپ اپنے جیسے لگیں گے، انگریزی بولتے ہوئے، اور اصل مقصد یہی ہے۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئی استاد آپ کو سنے اور نرمی سے غلطیاں درست کرے، تو آپ Education360 پر استاد تلاش کر سکتے ہیں۔

ذرائع

یہ پوسٹ شیئر کریں