ڈسلیکسیا کی وہ نشانیاں جو والدین سے اکثر چھوٹ جاتی ہیں، اور آگے کیا کریں

دوپٹا اوڑھے ایک ٹیچر ایک چھوٹے لڑکے کے ساتھ میز پر لکڑی کے حروف والے ٹکڑوں سے کام کرتے ہوئے مسکرا رہی ہیں۔

جو ذہین اور باتونی بچہ ہر صفحے پر اٹک جاتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ سست ہو۔ ڈسلیکسیا کی وہ نشانیاں جو والدین سے اکثر چھوٹ جاتی ہیں، اور باقاعدہ اسیسمنٹ اور مدد کیسے حاصل کریں۔

اسپیشل ایجوکیشن کے اساتذہ کو ایک ہی طرح کا بچہ بار بار ملتا ہے: ذہین، باتونی، حاضر جواب۔ پھر کتاب کھلتی ہے، اور جو بچہ ابھی باتوں سے بھرا ہوا تھا، چپ ہو جاتا ہے۔

گھر پر ایسے بچے کو اکثر سست یا لاپروا کہا جاتا ہے، اور پھر یہ ٹھپا اترتا نہیں۔ یہاں ڈسلیکسیا کی وہ نشانیاں ہیں جو آسانی سے نظر سے رہ جاتی ہیں، اور یہ کہ آگے کیا کریں۔ آپ کے بچے کو ڈسلیکسیا ہے یا نہیں، یہ صرف کسی مستند ماہر کا اسیسمنٹ (باقاعدہ جانچ) بتا سکتا ہے؛ یہ تحریر نہیں بتا سکتی۔

ڈسلیکسیا کیا ہے، سیدھے سادے لفظوں میں

ڈسلیکسیا میں دماغ زبان کو ذرا مختلف انداز میں سمجھتا اور برتتا ہے۔ اس سے سب سے زیادہ پڑھنے، لکھنے اور ہجے کرنے میں مشکل ہوتی ہے۔ اس کا ذہانت پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ سستی بھی نہیں؛ انٹرنیشنل ڈسلیکسیا ایسوسی ایشن صاف کہتی ہے کہ اس کی وجہ بچے میں سیکھنے کی خواہش کی کمی نہیں ہے۔

یہ اکثر خاندانوں میں چلتا ہے، اس لیے اگر گھر میں کسی اور کو بھی ایسی ہی مشکل رہی ہو تو اس کا ذکر ضرور کریں۔ صحیح مدد ملے تو ڈسلیکسیا والے بہت سے لوگ اچھی طرح پڑھنا لکھنا سیکھ لیتے ہیں، اور مدد جتنی جلدی ملے، اتنا بہتر۔

وہ نشانیاں جو آسانی سے نظر سے رہ جاتی ہیں

کسی ایک نشانی کا کوئی خاص مطلب نہیں، اور ان نشانیوں کی دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔ یہ دیکھیں کہ کیا کئی نشانیاں بار بار سامنے آ رہی ہیں، اور وہ بھی ایسے بچے میں جو باقی باتوں میں قابل ہے۔

  • بولنے میں آگے، لکھنے میں پیچھے۔ زبانی جواب خیالات سے بھرا ہوتا ہے؛ لکھا ہوا جواب کاٹ پیٹ والی تین سطریں۔
  • بلند آواز سے آہستہ اور رک رک کر پڑھنا: پہلا حرف یا تصویر دیکھ کر لفظ کا اندازہ لگانا، چھوٹے لفظ چھوڑ دینا یا اپنی طرف سے بڑھا دینا۔
  • ایک ہی صفحے پر ایک ہی لفظ تین طرح سے لکھا ہوا، اور املا کے نمبر جو کتنی ہی مشق کے باوجود کم ہی رہتے ہیں۔
  • سات سال کی عمر کے بعد بھی ملتے جلتے حروف کو اکثر گڈمڈ کر دینا، جیسے انگریزی کے b اور d، یا اردو کے وہ حروف جو صرف نقطوں سے الگ پہچانے جاتے ہیں، جیسے ب، ت اور ث۔ سات سال سے پہلے یہ عام بات ہے۔
  • ترتیب والی چیزیں یاد نہ رہنا: ہفتے کے دن، مہینے، پہاڑے، گھڑی دیکھ کر وقت بتانا۔
  • پڑھائی سے بچنے کے ہوشیار طریقے: پنسل کو اچانک تراشنے کی ضرورت پڑ جانا، کتاب گم ہو جانا، کلاس کا مسخرہ بن جانا۔ یا بالکل خاموش ہو جانا۔
  • بڑے بچوں میں: جتنا آتا ہے اتنا کاغذ پر نہ لا پانا، بہت آہستہ لکھنا، پرچہ شاید ہی کبھی وقت پر پورا کرنا۔

ذرا تصور کریں: دوسری جماعت کی ایک بچی گھر پر اپنی اردو کی کتاب فرفر ”پڑھ“ لیتی ہے۔ صفحے کے بیچ کسی ایک لفظ پر انگلی رکھیں تو اسے سطر کے شروع سے دوبارہ پڑھنا پڑتا ہے: وہ پڑھ نہیں رہی تھی، یاد سے سنا رہی تھی۔ اسے کوئی نیا صفحہ دے کر دیکھیں، کھیل کی طرح، امتحان کی طرح نہیں۔

پہلے سادہ وجوہات کو پرکھ لیں

بچے کی نظر اور سماعت کا معائنہ کروائیں۔ جو بچہ بورڈ صاف نہ دیکھ سکے یا استاد کی بات ٹھیک سے نہ سن سکے، وہ بالکل اس بچے جیسا لگ سکتا ہے جسے پڑھنے میں مشکل ہو۔

بہت سے پاکستانی بچے ایک ساتھ تین رسم الخط سیکھ رہے ہوتے ہیں: اردو، انگریزی، اور قاعدے والی عربی۔ جو بچہ اردو آرام سے پڑھ لیتا ہے مگر انگریزی میں اٹکتا ہے، ہو سکتا ہے اسے بس انگریزی زیادہ سننے اور پڑھنے کی ضرورت ہو۔ اگر مشکل دونوں میں ہو تو اس کی مزید جانچ ہونی چاہیے۔

شروعات کلاس ٹیچر سے کریں

دو تین ہفتے تک چند مثالیں لکھتے جائیں، کچھ کاپیاں ساتھ لیں، اور کلاس ٹیچر سے دس منٹ مانگیں۔ آپ کچھ یوں کہہ سکتے ہیں:

”گھر پر لگتا ہے کہ اس کے لیے بولنے کے مقابلے میں پڑھنا اور ہجے کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔ آپ کلاس میں کیا دیکھتے ہیں؟ جب تک ہم مزید معلوم کریں، کیا ابھی کچھ بدلا جا سکتا ہے؟“

سادہ تبدیلیوں کے لیے رپورٹ کا انتظار ضروری نہیں: بغیر بتائے بلند آواز سے پڑھنے کو نہ کہا جائے، بورڈ سے نقل کرنے کے بجائے نوٹس کی فوٹو کاپی مل جائے، اور سائنس میں ہجوں کے بجائے خیالات پر نمبر دیے جائیں۔ اگر اسکول میں اسپیشل ایجوکیشن ٹیچر ہوں تو ان سے بھی ملیں۔

باقاعدہ اسیسمنٹ کیسے کروائیں

ڈسلیکسیا کا اسیسمنٹ عموماً کوئی ماہرِ نفسیات یا اسیسمنٹ کی تربیت رکھنے والا اسپیشلسٹ ٹیچر کرتا ہے، عام ڈاکٹر نہیں۔ بچوں کے ڈاکٹر یا اسکول سے کہیں کہ کسی ایسے کلینیکل یا ایجوکیشنل سائیکالوجسٹ کا نام بتائیں جو بچوں کا اسیسمنٹ کرتا ہو۔ اگر اسکول کی فکر بچے کے موڈ یا نیند پر اثر ڈال رہی ہو تو یہ بات بھی ڈاکٹر کو بتائیں۔

اسیسمنٹ میں عموماً پڑھنا، ہجے، عمومی ذہنی صلاحیت، اور لفظوں کی آوازیں پہچاننے اور جوڑنے کی وہ مہارت دیکھی جاتی ہے جس پر پڑھنا کھڑا ہوتا ہے۔ وقت لینے سے پہلے یہ پوچھ لیں:

  • آپ کی کوالیفکیشن کیا ہے، اور بچوں کے اسیسمنٹ کا آپ کو کتنا تجربہ ہے؟
  • میرے بچے کا ٹیسٹ کس زبان میں ہوگا؟ یہ وہی زبان ہونی چاہیے جس میں وہ پڑھنا سیکھ رہا ہے۔
  • کیا ہمیں تحریری رپورٹ ملے گی، جس میں اسکول اور گھر کے لیے سفارشات ہوں؟

اسکول میں کون سی تبدیلیاں مدد کرتی ہیں

رپورٹ میں عموماً کچھ سہولتیں تجویز کی جاتی ہیں، یعنی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں، جیسے سبق آڈیو میں سننا، زبانی یا ٹائپ کر کے جواب دینا، وقفوں کے ساتھ اضافی وقت، اور ٹیسٹ کے لیے پرسکون کمرہ۔ ان سے ٹیسٹ زیادہ منصفانہ ہو جاتے ہیں، مگر یہ پڑھنا نہیں سکھاتیں، اس لیے ساتھ میں پڑھنے اور ہجوں کے باقاعدہ، مرحلہ وار اسباق بھی مانگیں۔

کیمبرج کے او اور اے لیولز کے لیے اسکول ”ایکسس ارینجمنٹس“ (Access Arrangements) کی درخواست دیتا ہے، اس لیے جلدی بات کریں۔ میٹرک اور انٹر کے لیے پوچھیں کہ آپ کا بورڈ کیا اجازت دیتا ہے، اور اپنے بورڈ کا نوٹس ضرور دیکھیں۔

گھر پر مدد کیسے کریں

  • روز بچے کو پڑھ کر سنائیں۔ اس کی سطح سے اوپر کی کہانیاں، اردو ہوں یا انگریزی، اس کے الفاظ کا ذخیرہ بڑھاتی رہتی ہیں، جب تک اس کا اپنا پڑھنا رفتار نہ پکڑ لے۔ آڈیو بکس بھی اسی میں شامل ہیں۔
  • تھوڑا تھوڑا، مگر روز۔ اسپیشلسٹ کی بتائی ہوئی مشق کے دس پرسکون منٹ، روزانہ، اتوار کو روتے دھوتے گزرے ایک گھنٹے سے کہیں بہتر ہیں۔
  • ہجے آنکھ، کان اور ہاتھ سے۔ لفظ کی ایک ایک آواز بولیں، ٹرے میں نمک بچھا کر انگلی سے لفظ بنائیں، پھر لکھیں۔ ہفتے میں تین چار لفظ کافی ہیں۔
  • ہوم ورک میں سوال بلند آواز سے پڑھ کر سنائیں، اور لکھنے سے پہلے بچے کو جواب زبانی بتانے دیں۔
  • اگر بچہ ناظرہ پڑھتا ہے تو قاری صاحب کو بھی بتا دیں، تاکہ آہستہ پیش رفت کو محنت کی کمی نہ سمجھا جائے۔
  • مہمانوں کے سامنے کبھی بلند آواز سے پڑھنے کو نہ کہیں۔ خاندان میں کوئی ”نالائق“ یا ”کام چور“ نہ کہے۔ اور جس کام میں وہ اچھا ہے، ڈرائنگ ہو یا کرکٹ، اس پر کھل کر داد دیں: یہی اعتماد بچے کو مشکل صفحوں سے پار لگاتا ہے۔

جو کوئی ڈسلیکسیا ختم کرنے کا دعویٰ کرے، اس سے ہوشیار رہیں؛ ایسا کوئی علاج نہیں۔ بچوں کی آنکھوں کے ماہرین کہتے ہیں کہ اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں کہ آنکھوں کی ورزشیں یا رنگین شیشوں والی عینک پڑھائی میں کارکردگی بہتر کرتی ہے۔ اصل مدد باقاعدہ اور صبر سے کی گئی تدریس سے ملتی ہے۔

بچے کو بتائیں: ”تمہارا دماغ پڑھنا اپنے طریقے سے سیکھتا ہے۔ اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں، اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم ذہین نہیں ہو۔ ہم مل کر وہ طریقہ ڈھونڈیں گے جو تمہارے لیے کام کرے۔“

اس ہفتے تین کام کریں: آنکھوں کے معائنے کا وقت لیں، تین مثالیں لکھ لیں، اور کلاس ٹیچر کو ملاقات کے لیے میسج کر دیں۔

اگر اسیسمنٹ میں ون ٹو ون مشق کی سفارش ہو تو ایسا تحمل مزاج استاد چنیں جو اسپیشلسٹ کے پلان کے مطابق چلنے کو تیار ہو۔ آپ پانچ ٹیپ میں استاد ڈھونڈ سکتے ہیں؛ ہماری آن لائن ٹیوٹر کی حفاظتی چیک لسٹ بتاتی ہے کہ پہلے کیا کچھ دیکھنا ہے۔

ذرائع

یہ پوسٹ شیئر کریں