
والدین اور اساتذہ کے لیے آسان الفاظ میں: قومی نصابی فریم ورک 2026 کا مسودہ، مشترکہ بنیادی نصاب کی تجویز، اور 2028 تک بچوں کی کتابوں میں کیا بدل سکتا ہے۔
والدین جب ”نیا نصاب“ سنتے ہیں تو انہیں نئی کتابوں اور سال کے شروع کے بل کا خیال آتا ہے۔ نصاب بنانے والے ایک زنجیر کا سوچتے ہیں جس کی پانچ کڑیاں ہیں۔ کتابیں تو صرف تیسری کڑی ہیں۔
پاکستان میں اس وقت پہلی کڑی پر بحث ہو رہی ہے۔ یہاں آسان الفاظ میں جانیے کہ کیا طے ہو رہا ہے، یہ بات آپ کے گھر تک کیسے پہنچتی ہے، اور 2028 سے پہلے کیا بدل سکتا ہے۔
پہلے یہ سمجھ لیں کہ نصاب ہوتا کیا ہے
- فریم ورک: بڑے اصول۔ اسکول کس لیے ہے، کون سے مضامین پڑھائے جائیں گے، ہر ایک کو کتنا وقت ملے گا، اور سیکھنے کو کیسے جانچا جائے گا۔
- نصاب ہر مضمون اور ہر جماعت کا: سال کے آخر تک بچے کو کیا آنا چاہیے اور وہ کیا کچھ کر سکے۔
- درسی کتابیں، جو اس نصاب کے مطابق لکھی جاتی ہیں، پھر ان کا جائزہ، منظوری، چھپائی اور تقسیم ہوتی ہے۔
- اساتذہ، جنہیں اسے پڑھانے کی تربیت دی جاتی ہے۔
- امتحانات، جنہیں وہی جانچنا چاہیے جو نیا نصاب مانگتا ہے، وہ نہیں جو پرانا مانگتا تھا۔
پہلی کڑی بدلیں تو باقی سب کڑیوں کو بھی بدلنا پڑتا ہے۔ اس میں مہینے نہیں، برس لگتے ہیں۔ اور جب کوئی ایک کڑی باقیوں سے تیز چلتی ہے تو سب سے پہلے بچے اسے محسوس کرتے ہیں۔
کیا طے ہو رہا ہے
18ویں ترمیم کے بعد سے نصاب صوبوں کی ذمہ داری ہے، اس لیے کام ایک ساتھ دو سطحوں پر ہو رہا ہے۔
| کون | کیا | کس مرحلے پر |
|---|---|---|
| نیشنل کریکولم کونسل (وفاقی) | قومی نصابی فریم ورک (NCF) 2026 کا مسودہ، اور ابتدائی بچپن سے پانچویں جماعت تک کا نصاب | رائے مانگی جا رہی ہے |
| پنجاب | پرائمری کا نظرِ ثانی شدہ نصاب | 2027 کے تعلیمی سال کے لیے منظور |
| خیبر پختونخوا | سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری کا نظرِ ثانی شدہ نصاب | جاری کر دیا گیا |
مشترکہ بنیادی نصاب کے حق میں دلیل
پشاور میں ایک میڈیا بریفنگ میں، جس کی خبر 14 اکتوبر کو شائع ہوئی، خیبر پختونخوا کے سابق وزیرِ تعلیم میاں عمران مسعود نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ایک مشترکہ بنیادی نصاب (common core) پر متفق ہوں اور اس پر عمل درآمد کے لیے اپریل 2028 تک کا وقت دیں۔ ان کے مطابق یہ وقت معیاری درسی کتابوں، اساتذہ کی تربیت، اور تدریس و امتحان کو ہم آہنگ کرنے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وفاق، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے الگ الگ نصاب معیار میں فرق پیدا کر سکتے ہیں، اور ایک صوبے سے دوسرے صوبے جانے والے طلبہ کی مشکلات بڑھا سکتے ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کے مینیجنگ ڈائریکٹر ارشد سعید نے انگریزی، اردو، ریاضی اور سائنس کے لیے مشترکہ بنیادی نصاب کی تجویز دی، جس میں ہر صوبہ معاشرتی علوم کے ذریعے اپنی تاریخ، جغرافیہ اور مقامی پس منظر خود شامل کرے۔ ان کے مطابق ایک مشترکہ فریم ورک ایک ہی کام کے بار بار ہونے کو کم کر سکتا ہے اور کتابوں کی قیمت قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ مقررین نے جلد بازی میں عمل درآمد سے خبردار کیا اور کہا کہ پہلے تجرباتی تدریس (pilot teaching) کے لیے وقت دیا جائے۔
عمران مسعود نے ایک ایسے عدد کی طرف بھی توجہ دلائی جسے ہر استاد پہچانتا ہے: پاکستان کے تعلیمی سال میں تقریباً 140 سے 145 تدریسی دن ہوتے ہیں، جبکہ کئی دوسرے ممالک میں 192 سے 220۔ جو بھی نصاب بنے، اسے انہی دنوں میں سمانا ہے جو ہمارے پاس واقعی ہیں۔
کچھ لوگ رفتار کم کرنا چاہتے ہیں
8 ستمبر کو وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے NCF 2026 کے جامع اور اتفاقِ رائے پر مبنی جائزے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا، جس میں سیاسی جماعتوں، صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اور دیگر فریقوں کو ساتھ لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فریم ورک تفصیلی جائزے کے لیے وزیرِ اعظم کو بھیجا جائے۔
اس سے پہلے 27 مارچ کو اسلام آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (IPS) کی ایک جائزہ نشست میں ماہرین نے NCF 2026 کو حتمی شکل دینے کا عمل روکنے کا مطالبہ کیا، تاکہ یہ کام زیادہ شواہد کی بنیاد پر اور زیادہ مشاورت سے ہو۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ قومی تعلیمی پالیسی 2009 کے بعد سے اپ ڈیٹ نہیں ہوئی، کہ نجی اسکول، دینی مدارس اور کلاس روم کے اساتذہ مشاورت سے باہر رہے، اور کہ قومی زبان اردو کے پیچھے رہ جانے کا خدشہ ہے۔
غور کریں کہ تقریباً سب کس بات پر متفق ہیں: مناسب وقت لیا جائے، اساتذہ کی بات سنی جائے، اور کتابیں، تربیت اور امتحان ایک ساتھ آگے بڑھیں۔ اختلاف زیادہ تر اس پر ہے کہ فیصلہ کون کرے، کتنی تیزی سے، اور نصاب کا کتنا حصہ سب کا مشترک ہو۔
آپ کے گھرانے کے لیے اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے
آگے جو لکھا ہے اس میں سے کسی بات کا اعلان نہیں ہوا۔ یہ اس بات کا محتاط اندازہ ہے کہ نصاب کی تبدیلیاں عموماً کیسے سامنے آتی ہیں۔
- اگلے دو برسوں میں کچھ جماعتوں میں نئی کتابیں آنے کا امکان ہے، شروع پنجاب کی ابتدائی جماعتوں سے، جہاں پرائمری کا نیا نصاب 2027 میں آنا ہے۔
- کچھ عرصے تک مختلف صوبے مختلف مراحل پر مختلف چیزیں پڑھا سکتے ہیں۔ جو سبق ایک صوبے میں چوتھی جماعت میں ہے، وہ دوسرے میں پانچویں میں آ سکتا ہے۔
- جو گھرانے ایک صوبے سے دوسرے میں، یا صوبائی سے وفاقی اسکول میں منتقل ہوں، انہیں کچھ خلا مل سکتے ہیں، یا کوئی سبق دو بار پڑھنا پڑ سکتا ہے۔
- اساتذہ کو تربیت کی ضرورت ہو گی، اور کسی بھی نئی کتاب کا پہلا سال عموماً سب سے مشکل ہوتا ہے۔
- بورڈ کے امتحانات عموماً سب سے آخر میں بدلتے ہیں، جب نئی کتابیں کلاس روم تک پہنچ جاتی ہیں۔
والدین ابھی کیا کر سکتے ہیں
کمیٹی آپ کے ہاتھ میں نہیں۔ گھر میں کیا ہوتا ہے، یہ آپ کے ہاتھ میں ہے، اور کچھ مہارتیں ہر سلیبس میں کام آتی ہیں۔
- پڑھنا: روزانہ پندرہ منٹ، اونچی آواز میں، اردو اور انگریزی میں، اور آخر میں ایک سوال: ”کیا ہوا، اور کیوں؟“
- عدد کی سمجھ: دکان پر زبانی حساب، کھانا پکاتے ہوئے آدھا اور چوتھائی، سوئیوں والی گھڑی پر وقت بتانا۔
- لکھنا: ہفتے میں ایک چھوٹا پیراگراف، کسی بھی موضوع پر، بچے کے اپنے الفاظ میں۔
- جب کتابیں بدلیں تو پرانی اور نئی کتاب ساتھ ساتھ رکھیں۔ پرانی کتاب مشق کے لیے اب بھی اچھی ہے؛ نئی بتاتی ہے کہ اسکول اب کیا چاہتا ہے۔
- اگر آپ صوبہ بدلیں تو نئے اسکول سے ہر مضمون کے ابواب کی فہرست لیں، اور چھٹیوں میں اسے پرانی فہرست سے ملا لیں۔
بچے کے اسکول سے پوچھنے کے سوال
- اس سال یا اگلے سال کن جماعتوں کی کتابیں بدل رہی ہیں؟
- جو سبق ایک جماعت سے دوسری میں منتقل ہوئے ہیں، وہ آپ کیسے پڑھائیں گے؟
- اس ٹرم کے ٹیسٹ پرانی کتاب سے ہوں گے یا نئی سے؟
- نئی کتابوں کے لیے اساتذہ کو کیا تربیت مل رہی ہے؟
اگر آپ استاد ہیں تو فریم ورک کا مسودہ جب آپ تک پہنچے تو اسے پڑھیں، اور جو بھی ذریعہ دیا جائے اس سے اپنی رائے بھیجیں۔ ناقدین کا ایک بڑا اعتراض یہی تھا کہ کلاس روم کے اساتذہ کی آواز نہیں سنی گئی۔ اسے اساتذہ خود بدل سکتے ہیں۔
اور اگر کتابیں بدلنے یا صوبہ بدلنے سے آپ کا بچہ کسی ایک مضمون میں پیچھے رہ جائے، تو ایک صابر استاد کے ساتھ چند ہفتے یہ خلا پُر کر سکتے ہیں۔ آپ Education360 پر ایسا استاد تلاش کر سکتے ہیں۔
ذرائع
- دی نیشن: عمران مسعود کا مشترکہ بنیادی نصاب اور اپریل 2028 تک مرحلہ وار عمل درآمد کا مطالبہ (14 اکتوبر 2026، انگریزی)
- اے پی پی: احسن اقبال کا NCF 2026 کے اتفاقِ رائے پر مبنی جائزے کا مطالبہ (8 ستمبر 2026، انگریزی)
- انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز: NCF 2026 کو حتمی شکل دینا روکنے کا مطالبہ (27 مارچ 2026، انگریزی)