
کمپیوٹر سے گھبراتے ہیں؟ پڑھانے کا مشکل حصہ آپ پہلے ہی جانتے ہیں۔ پہلی آن لائن کلاس کے لیے ایک پرسکون چیک لسٹ، آزمائشی کال سے ہوم ورک تک۔
آن لائن کلاسز میں نئے آنے والے اساتذہ تقریباً ہمیشہ ایک ہی جملے سے بات شروع کرتے ہیں: ”مجھ سے یہ کمپیوٹر نہیں چلتا۔“ اور اکثر یہ بات وہ استاد کہہ رہے ہوتے ہیں جو ایک نظر سے چالیس بچوں کو خاموش کرا دیتے ہیں، اور جانتے ہیں کہ ہر سال نویں جماعت کو سبق کا کون سا حصہ الجھاتا ہے۔
پڑھانے کا مشکل حصہ یہی علم ہے، اور وہ آپ کے پاس پہلے سے موجود ہے۔ بٹن آسان حصہ ہیں۔ یہ کل ملا کر چھ کے قریب ہیں، اور تیسری کلاس تک آپ انہیں بغیر سوچے دبانے لگیں گے۔
ایک دن پہلے
- گھر کے کسی فرد کے ساتھ آزمائشی کال کریں۔ بیٹے، بیٹی یا پوتے نواسے سے کہیں کہ دوسرے کمرے سے کلاس میں شامل ہو۔ کیا آپ کی آواز صاف آ رہی ہے، چہرہ نظر آ رہا ہے، اور لکھا ہوا پڑھا جا رہا ہے؟
- چھ بٹن سیکھ لیں: مائیک، کیمرہ، اسکرین شیئر، وائٹ بورڈ، چیٹ، اور کلاس سے نکلنا۔ ہر بٹن دباتے ہوئے اس کا نام اونچی آواز میں بولیں۔ عجیب لگتا ہے۔ مگر کام کرتا ہے۔
- سبق کو تقریباً 15، 15 منٹ کے تین حصوں میں بانٹیں، اور ہر دو حصوں کے بیچ ایک سوال یا چھوٹا سا کام رکھیں۔ فون پر لمبا لیکچر سننا مشکل ہوتا ہے۔
- اپنا پہلا سوال ایک پرچی پر لکھ لیں، تاکہ گھبراہٹ کے عالم میں سوچنا نہ پڑے۔
- لوڈ شیڈنگ کا انتظام کر لیں: لیپ ٹاپ چارج کریں، یو پی ایس دیکھ لیں، اور ڈیٹا پیکج والا ایک فون ہاٹ اسپاٹ کے لیے تیار رکھیں۔
تیس منٹ پہلے
- چارجر لگا دیں اور کمپیوٹر پر باقی سب کچھ بند کر دیں۔
- مائیک والا ہیڈ سیٹ یا ایئر فون لگائیں۔ اس سے وہ گونج نہیں بنتی جو لیپ ٹاپ کے اسپیکر کی آواز واپس اسی کے مائیک میں جانے سے پیدا ہوتی ہے۔
- کھڑکی یا لیمپ کی طرف منہ کر کے بیٹھیں۔ کھڑکی پیچھے ہو تو آپ ایک کالا سایہ بن کر پڑھائیں گے۔
- لیپ ٹاپ کے نیچے چند کتابیں رکھ دیں تاکہ کیمرہ آنکھوں کی سیدھ میں آ جائے۔ طلبہ کو آپ کا چہرہ نظر آنا چاہیے، چھت کا پنکھا نہیں۔
- گھر والوں کو بتا دیں کہ کلاس شروع ہو رہی ہے۔ دروازے پر ایک پرچی لگا دینا بھی کام آتا ہے۔ (پریشر ککر کی سیٹی پھر بھی بجے گی۔ اسے کوئی نہیں روک سکتا۔)
- فون سائلنٹ پر، کلاس کی فہرست ساتھ، پانی ہاتھ کے قریب۔ کلاس میں جلدی شامل ہوں اور دیکھ لیں کہ مائیک کے نشان پر کراس تو نہیں لگا۔
پہلے پانچ منٹ
- ہر طالب علم کے آنے پر نام لے کر اسے سلام کریں۔ اس سے اسے پتا چلتا ہے کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں، اور یہاں اس کی بھی جگہ ہے۔
- آواز چیک کریں: ”جسے میری آواز آ رہی ہے، وہ چیٹ میں 1 لکھ دے۔“ ہر نام کا جواب آنے تک انتظار کریں۔
- تین اصول ایک ہی بار بتا دیں: بولنا نہ ہو تو مائیک بند؛ کچھ پوچھنا ہو تو ہاتھ اٹھائیں یا چیٹ میں لکھیں؛ اور اگر استاد غائب ہو جائیں تو کلاس میں رہیں اور بورڈ پر دی گئی مشق شروع کر دیں۔
- کوئی آسان سا سوال پوچھیں جس کا جواب ہر کوئی دے سکے، جیسے پچھلی کلاس کی کوئی ایک بات جو انہیں یاد ہو۔
- ایک جملے میں بتا دیں کہ آج کی کلاس میں کیا پڑھیں گے۔
کلاس کے دوران
کیمرہ
جب کوئی اہم بات کہیں تو اسکرین پر چہروں کے بجائے کیمرے میں دیکھیں۔ طالب علم کو یوں لگتا ہے جیسے آپ سیدھا اسی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ باقی وقت اپنے فطری انداز میں رہیں۔ کوئی آپ سے خبریں پڑھنے والے کی توقع نہیں کر رہا۔
آواز
اگر صرف ایک چیز ٹھیک کر سکیں تو آواز ٹھیک کریں۔ جب محققین نے ایک ہی ریکارڈ شدہ لیکچر صاف آواز میں بھی سنوایا اور خراب آواز میں بھی، تو خراب آواز والے لیکچر پر سننے والوں نے بولنے والے اور اس کی تحقیق، دونوں کو کم تر سمجھا۔ کلاس روم کے مقابلے میں ذرا آہستہ بولیں، اور ہر اہم بات کے بعد تھوڑا رکیں۔
اسکرین پر لکھنا
ماؤس سے لکھنا ایسا ہے جیسے اینٹ سے لکھ رہے ہوں۔ آسان طریقے یہ ہیں: وائٹ بورڈ پر بڑے حروف میں ٹائپ کریں، سفید کاغذ پر موٹے مارکر سے لکھ کر کیمرے کے سامنے کریں، یا کتاب کے صفحے کی تصویر لے کر شیئر کر دیں۔ بلیک بورڈ کے مقابلے میں کم الفاظ لکھیں، اور آہستہ لکھیں۔
طلبہ سے سوال پوچھنا
آن لائن کلاس میں ”کوئی بتائے؟“ کا جواب عموماً خاموشی ہوتا ہے۔ پہلے سوال پوچھیں، ذرا رکیں، پھر کسی کا نام لیں۔ کلاس روم میں سوال پوچھنے پر ہونے والی تحقیق کے مطابق اساتذہ عموماً ایک سیکنڈ سے بھی کم انتظار کر کے خود بول پڑتے ہیں، جبکہ تقریباً تین سیکنڈ کا وقفہ دینے سے جواب لمبے اور بہتر آتے ہیں۔ آن لائن کنکشن کی تاخیر کے لیے کچھ وقت اور دیں: دل میں پانچ تک گنیں۔ یہ وقفہ لمبا لگے گا۔ ہوتا نہیں۔
جب بھی کوئی طالب علم بولے، فہرست میں اس کے نام کے آگے نشان لگا دیں، تاکہ خاموش رہنے والوں کی باری بھی آئے۔
جب کچھ گڑبڑ ہو جائے
کبھی نہ کبھی ضرور ہوگی۔ یہ ہر استاد کے ساتھ ہوتا ہے، اور اگر آپ پرسکون رہیں تو طلبہ جلد درگزر کر دیتے ہیں۔
| مسئلہ | پہلے یہ دیکھیں | کیا کہیں |
|---|---|---|
| ایک طالب علم کو آپ کی آواز نہیں آ رہی | کیا آپ کے مائیک پر کراس ہے؟ اگر باقی سب سن رہے ہیں تو مسئلہ اسی طالب علم کی طرف ہے۔ | ”اپنے فون کا والیوم اونچا کریں۔ پھر بھی نہ آئے تو کلاس سے نکل کر دوبارہ شامل ہوں۔“ |
| سب کو گونج سنائی دے رہی ہے | کسی کا اسپیکر مائیک کے پاس کھلا ہے۔ | ”جو بول رہا ہے، اس کے سوا سب اپنا مائیک بند کر دیں۔“ |
| آپ کا انٹرنیٹ چلا گیا | اسی لنک سے دوبارہ شامل ہوں۔ نہ ہو سکے تو فون کا ہاٹ اسپاٹ استعمال کریں۔ | ابھی کچھ نہیں۔ طلبہ کو اصول معلوم ہے: کلاس میں رہیں اور مشق شروع کریں۔ |
| بجلی چلی گئی | لیپ ٹاپ بیٹری پر، راؤٹر یو پی ایس پر؟ نہیں تو فون سے شامل ہو جائیں۔ | ”معذرت، لوڈ شیڈنگ تھی۔ سوال نمبر 3 سے آگے چلتے ہیں۔“ |
دس منٹ سے زیادہ ضائع ہو گئے؟ پورا سبق باقی وقت میں ٹھونسنے کی کوشش نہ کریں۔ ایک حصہ اچھی طرح مکمل کریں اور باقی اگلی کلاس پر رکھ دیں۔
کلاس کے بعد
- شیئر کرنے سے پہلے اپنی ریکارڈنگ کے دس منٹ خود دیکھیں۔ دیکھیں کہ کہاں آپ نے جلدی کی اور کہاں طلبہ خاموش ہو گئے۔ اپنی آواز سننا کسی کو اچھا نہیں لگتا، مگر یہ کسی بھی ٹریننگ سے زیادہ سکھاتا ہے۔
- ہوم ورک لکھ کر دیں، ایسی جگہ جہاں پوری کلاس کو مل جائے: کیا کرنا ہے، کون سا صفحہ، اور کب تک جمع کرانا ہے۔ صرف زبانی دیا گیا ہوم ورک گم ہو جاتا ہے۔
- نوٹ کر لیں کہ کون خاموش رہا اور کون سا حصہ لمبا کھنچ گیا۔ اگلی کلاس انہی دو باتوں سے شروع کریں۔
- چھوٹے بچوں کے والدین کو پہلے ہفتے کے بعد ایک مختصر پیغام بھیج دیں کہ بچہ کلاس میں کیسے گھل مل رہا ہے۔ اس سے انہیں اطمینان ہو جاتا ہے۔
دوسری کلاس سے پہلے
آپ کی پہلی آن لائن کلاس بے عیب نہیں ہوگی۔ اصل کلاس روم میں آپ کی پہلی کلاس بھی ایسی نہیں تھی، اور اس میں بہتری آپ کو پڑھانے سے آئی تھی، پڑھانے کے بارے میں پڑھنے سے نہیں۔ آزمائشی کال آج ہی کر لیں، اور کلاس والے دن یہ فہرست ساتھ رکھیں۔
اگر آپ ہمارے ساتھ آن لائن پڑھانا چاہتے ہیں تو اس تحریر میں Education360 پر درخواست دینے اور معاوضے کا طریقہ بتایا گیا ہے، اور درخواست فارم یہاں ہے۔