
”میں میتھس میں کمزور ہوں“ کے پیچھے عموماً پچھلی جماعت کا کوئی خلا، ڈر یا گھڑی کا دباؤ ہوتا ہے۔ خلا کیسے ڈھونڈیں، گھر میں کیا کہیں، اور روز کے دس منٹ کیسے کام آئیں۔
یہ جملہ عموماً ہوم ورک کے وقت سامنے آتا ہے، چوتھی پانچویں جماعت کے آس پاس، جب لمبی تقسیم اور کسور (فریکشنز) شروع ہوتی ہیں: ”میں میتھس میں کمزور ہوں۔“ کبھی ساتھ آنسو بھی ہوتے ہیں۔ کبھی کاپی ایک طرف سرکا دی جاتی ہے، اور بچے کو اچانک پانی، واش روم اور ایک نوکیلی پنسل کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔
ریاضی کے اساتذہ یہ جملہ ہر سال سنتے ہیں، اور اس کا مطلب تقریباً کبھی یہ نہیں ہوتا کہ بچے کا ”دماغ ہی ریاضی والا نہیں“۔ عموماً اس کے پیچھے تین میں سے کوئی ایک بات ہوتی ہے، اور ہر ایک کا علاج الگ ہے۔
”میں میتھس میں کمزور ہوں“ کا عموماً کیا مطلب ہوتا ہے
1. پچھلی کسی جماعت کی کوئی سیڑھی چھوٹ گئی ہے
ریاضی ایک سیڑھی ہے۔ کسور تقسیم پر کھڑی ہیں، تقسیم پہاڑوں پر، اور پہاڑے اس سمجھ پر کہ عدد اصل میں کیا ہوتے ہیں۔ اگر تیسری جماعت میں کوئی سیڑھی چھوٹ گئی، بیماری، اسکول کی تبدیلی یا جلدی جلدی پڑھانے والے استاد کی وجہ سے، تو بچہ اکثر پانچویں چھٹی تک گزارا کر لیتا ہے۔ پھر سیڑھی جواب دے جاتی ہے، اور یوں لگتا ہے جیسے سب کچھ اچانک گر گیا ہو۔
ایسا بہت عام ہے۔ ASER 2025 کے سروے میں، جو پورے پاکستان میں بچوں کو ان کے گھروں میں جا کر جانچتا ہے، پانچویں جماعت کے آدھے سے بھی کم بچے (48 فیصد) تقسیم کا ایک سادہ سوال حل کر سکے۔ بنیاد میں خلا ہونا کوئی انوکھی بات نہیں، اور خلا بھرا جا سکتا ہے۔
2. ڈر
جس بچے کو ریاضی پر ڈانٹا گیا ہو، اس پر ہنسا گیا ہو یا کسی سے اس کا موازنہ کیا گیا ہو، وہ پہلے سے ناکامی کی توقع کرنے لگتا ہے۔ گھبراہٹ سوچنے میں رکاوٹ بنتی ہے، اس لیے وہ واقعی زیادہ غلطیاں کرتا ہے، اور ڈر سچا ثابت ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
والدین بھی انجانے میں یہ ڈر آگے منتقل کر سکتے ہیں۔ امریکہ میں پہلی اور دوسری جماعت کے 438 بچوں پر ایک تحقیق میں، جن بچوں کے والدین خود ریاضی سے گھبراتے تھے انہوں نے سال بھر میں کم ریاضی سیکھی اور خود بھی زیادہ گھبرانے لگے، مگر صرف اس صورت میں جب یہی والدین اکثر ریاضی کے ہوم ورک میں مدد کرتے تھے۔ یعنی مدد کا طریقہ اتنا ہی اہم ہے جتنا مدد کرنا۔
3. گھڑی
کچھ بچے آہستہ مگر درست کام کرتے ہیں، اور انہیں صرف اس لیے کمزور کہہ دیا جاتا ہے کہ کوئی اور پہلے ختم کر گیا۔ وقت باندھ کر پہاڑوں کے ٹیسٹ اور سر پر کھڑا کوئی بے صبر بڑا، دونوں ایک ہی سبق دیتے ہیں: اصل چیز رفتار ہے۔ ایسا نہیں ہے، کم از کم ابھی نہیں۔ پہلے سمجھ آتی ہے۔ رفتار مشق سے آتی ہے۔
خلا کیسے ڈھونڈیں
اس کے لیے آپ کا خود ریاضی میں اچھا ہونا ضروری نہیں۔ بس بیس پرسکون منٹ، ایک پنسل اور پچھلے سال کی کتاب چاہیے (ضرورت ہو تو کسی کزن کی لے لیں)۔
- موجودہ سبق سے ایک دو جماعت نیچے سے شروع کریں۔ پرانی کتاب سے تین چار آسان سوال چنیں۔ ٹھیک ہو جائیں تو تھوڑا اوپر جائیں۔ جہاں بچہ اٹکنے لگے، خلا وہیں سے شروع ہوتا ہے۔
- بچے سے کہیں کہ سوال حل کرتے ہوئے بتاتا جائے: ”ہر قدم پر بتاؤ کیا کر رہے ہو۔“ بیچ میں کچھ درست نہ کریں۔ بس سنیں کہ کس قدم پر بات بگڑتی ہے۔
- پچھلے چند ہفتوں کی کاپی دیکھیں۔ کیا ساری غلطیاں ایک ہی قسم کی ہیں: جمع میں حاصل بھول جانا، دہائی اور سینکڑے کو گڈمڈ کرنا، یا پہاڑے؟
- تین فوری جانچیں کریں۔ 3,482 میں 4 کی مقامی قیمت کیا ہے؟ کیا وہ 6، 7 اور 8 کا پہاڑا آہستہ مگر درست سنا سکتا ہے؟ ایک روٹی کے چار ٹکڑے کریں اور ایک کھا لیں تو روٹی کا کتنا حصہ بچا؟
جو پتا چلے، لکھ لیں۔ یہ ایک سطر، مثلاً ”مقامی قیمت کی سمجھ کمزور ہے“، وہ سب سے کارآمد بات ہے جو آپ کسی استاد کو بتا سکتے ہیں۔
گھر میں کیا کہیں، اور کیا کہنا چھوڑ دیں
| یہ کہنے کے بجائے | یہ کہیں |
|---|---|
| ”ریاضی تو مجھے بھی کبھی نہیں آئی۔“ | ”یہ حصہ ذرا مشکل ہے۔ آؤ دیکھیں کون سا قدم اٹک رہا ہے۔“ |
| ”اتنا آسان ہے، تم سے کیوں نہیں ہوتا؟“ | ”مجھے دکھاؤ تم نے شروع کیسے کیا۔“ |
| ”اپنی کزن کو دیکھو، اس کے پورے نمبر آئے۔“ | ”پہلے دو قدم تم نے بالکل ٹھیک کیے۔ آؤ تیسرا دیکھیں۔“ |
| ”جلدی کرو۔“ | ”آرام سے کرو۔ پہلے درست، تیزی بعد میں۔“ |
| ”تمہارا دماغ ہی ریاضی والا نہیں۔“ | ”ابھی نہیں آتا۔ آ جائے گا۔“ |
| ”پھر غلط۔“ | ”دلچسپ غلطی ہے۔ یہاں تم کیا سوچ رہے تھے؟“ |
جب بچہ کچھ ٹھیک کرے تو اس کے کام کی تعریف کریں، اس کی ذہانت کی نہیں: ”تم نے جواب دوبارہ چیک کیا اور غلطی خود پکڑ لی۔“
روزانہ دس منٹ، کتاب کے بغیر
زیادہ تر گھروں میں رات کے کھانے سے پہلے اتنی ریاضی ہو جاتی ہے جس کا ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ اسی سے فائدہ اٹھائیں۔
- دکان پر بچے کو پیسے دینے اور بقایا گننے دیں۔ دکاندار کے جوڑنے سے پہلے پوچھیں: ”500 کافی ہوں گے؟“
- باورچی خانے میں: آدھا کپ، چوتھائی چمچ، روٹی کے آدھے اور چوتھائی ٹکڑے۔ مہمانوں کے لیے ترکیب کو دگنا کرنا کسور کی بہترین مشق ہے۔
- گھڑی کے ساتھ: ”اگر مغرب 5:20 پر ہے تو ابھی کتنے منٹ باقی ہیں؟“
- کرکٹ کے ساتھ، بڑے بچوں کے لیے، مطلوبہ رن ریٹ ایک بامقصد تقسیم ہے: ”6 اوورز میں 54 رنز چاہئیں۔ فی اوور کتنے؟“
- سونے سے پہلے ریاضی کی ایک چھوٹی سی کہانی، وہیں بیٹھے بیٹھے بنائی ہوئی۔ امریکہ میں پہلی جماعت کے 587 بچوں پر ایک تحقیق میں جن گھرانوں نے ایک ایپ پر مل کر ریاضی کی مختصر کہانیوں والے سوال کیے، انہیں ہفتے میں ایک بار کرنے سے بھی فائدہ ہوا، اور سب سے زیادہ فائدہ وہاں ہوا جہاں والدین خود ریاضی سے گھبراتے تھے۔
- اسکول جاتے ہوئے ہفتے میں ایک پہاڑا، مل کر آہستہ آہستہ، کبھی دوڑ کی طرح نہیں۔
استاد کی ضرورت کب ہے
گھر کی مشق بہت کچھ ٹھیک کر دیتی ہے۔ استاد تب فائدہ دیتا ہے جب:
- خلا ایک دو جماعت سے زیادہ پیچھے تک جاتا ہو؛
- زیادہ تر شاموں کو ہوم ورک آنسوؤں یا ڈانٹ ڈپٹ پر ختم ہوتا ہو، کسی بھی طرف سے؛
- آپ سمجھاتے ہوئے جھنجھلا جاتے ہوں (یہ بالکل عام ہے؛ ایک پرسکون تیسرا شخص اکثر کام آتا ہے)؛
- نویں جماعت ایک دو سال دور ہو اور بنیاد اب بھی کچی ہو؛
- مہینوں کی پرسکون مدد کے بعد بھی اعداد آپ کے بچے کے لیے باقی ہر چیز سے کہیں زیادہ مشکل ہوں۔ ایسے میں اسکول سے بھی بات کریں: کوئی مستند ماہر جانچ سکتا ہے کہ کہیں سیکھنے کی کوئی خاص دشواری تو نہیں۔
ایسا استاد ڈھونڈیں جو اس ہفتے کا سبق دوڑانے کے بجائے پہلے خلا تلاش کرے، اور بچے سے اس کی سوچ بیان کرنے کو کہے۔ پہلے ہی دن اپنی وہ ایک سطر والی بات استاد کو دے دیں۔
آج رات ایک چھوٹا سا کام کر کے دیکھیں۔ کھانے پر بچے سے پوچھیں کہ اگر ہر کوئی دو روٹیاں کھائے تو گھر کو کتنی روٹیاں چاہئیں، اور جب چنگیر آئے تو اسے خود گن کر جواب جانچنے دیں۔
اگر آپ کو لگے کہ استاد سے فائدہ ہوگا تو پانچ ٹیپ میں اپنے بچے کی جماعت اور مضمون کا استاد ڈھونڈ سکتے ہیں، اور آن لائن ٹیوٹر چننے کے لیے ہماری چیک لسٹ اچھا فیصلہ کرنے میں مدد دے گی۔
ذرائع
- UKFIET: داخلے سے آگے، پاکستان کا اصل تعلیمی بحران سیکھنا ہے، ASER 2025 کے بارے میں (28 مئی 2026، انگریزی)
- یونیورسٹی آف شکاگو: والدین کی ریاضی سے گھبراہٹ بچوں کی کارکردگی پر اثر ڈال سکتی ہے (Psychological Science، 2015، انگریزی)
- یونیورسٹی آف شکاگو: گھر پر ریاضی کی کہانیاں اسکول میں کارکردگی بہتر کرتی ہیں (Science، 2015، انگریزی)